شعراء ایک نظر میں
ولی دکنی
ولی اللہ ولی، سلطان عبد اللہ قلی، قطب شاہوں کے آٹھویں فرماں روا کے عہد میں 1668ءمیں اورنگ آ باد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد حصول علم کے لیے احمد آباد آ گئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گزرا۔ اس شہر کے فراق میں انہوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔
فلسفہ کی گہرائیوں اور علمی مضامین اور اخلاقی باتیں نہ ہونے کے باوجود ولی کی شاعرانہ اہمیت مسلمہ ہے۔ جب بھی اردو غزل کی بات ہوگی اولیت کا تاج ولی کے سر کی زینت بنے گا۔ وہ اردو غزل کا باوا آدم نہ سہی، غزل کو نئے معانی اور نئے راستوں پر ڈالنے کا معمار اول ضرور ہے۔ولی کی شاعری کے چار نہایت اہم پہلو ہیں، تاریخی، لسانی، فنی اور جمالیاتی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق کے مطابق وہ 1730 کے بعد فوت ہوئے، تاہم زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ولی 1708 کے لگ بھگ فوت ہوئے تھے۔
خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا (میر تقی میر)
سراج اورنگ آبادی
سراج اورنگ آبادی 11،مارچ 1712 ء کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے ،ان کا پورا نام سراج الدین ہے اور اورنگ آباد کی نسبت سے اورنگ آبادی سے مشہور ہوگئے۔ آپ ایک ہندوستانی صوفی شاعر تھے۔ والد کا نام سید درویش تھا، ان کا خاندان مذہبیت، علم و فضل اور فقر و درویشی کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بارہ سال کی عمر تک تحصیل علم میں مصروف رہے۔ ان کے مرشد شاہ عبد الرحمن چشتی تھے۔ مرشد کے وصال کے صدمہ کے بعد سراج نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ اور اسی دوران فارسی اساتذہ کے دیوانوں کا انتخاب شروع کیا اور 1169 ھ میں مکمل کرکے اس کا دیباچہ بھی لکھا اور اس مجموعہ کا نام "منتخب دیوان ہا" رکھا۔ ان کی شاعری اور بزرگی کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تھی۔ ان کی غزلوں کا دیوان کلیات سراج ہے۔ کلیات سراج میں شامل مثنویوں میں مثنوی "بوستان خیال" کافی معروف ہے۔ غرضیکہ سراج نے سخن کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔
سراج اورنگ آبادی کا انتقال 52 سال کی عمر میں بروز جمعہ 4 شوال 1177ھ مطابق 6 اپریل 1764ء کو اورنگ آباد میں ہوا۔
میر تقی میر
میر تقی میرآگرہ میں 1723ء میں پیدا ہوئے،اصل نام میر محمد تقى تھا، ان کے والد کا نام محمد علی تھا، ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی، ان کی وفات کے بعد والد نے خود تعلیم و تربیت شروع کی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ اس لیے لکھنؤ چلے گئے وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے تین سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔
اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کمیر کی شاعری کے فکری عناصر میں متصوفانہ رنگ خاص طور پرقابل ذکر ہے۔ے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے كے ايك منفرد شاعر تھےـ آپ كے متعلق اردو كے عظیم الشان شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے۔
ریختہ كے تمہی استا د نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا
بقول عبد الحق، ” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے۔۔۔۔۔۔انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں ملتی۔
آخر اقلیم سخن کا یہ حرماں نصیب شہنشاہ 87 سال کی عمر پا کر 1810ء میں لکھنؤ کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔
خواجہ میر درد
ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
خواجہ میر درد درد کا نام سید خواجہ میر اور درد تخلص تھا با پ کا نام خواجہ محمد ناصر تھا، خواجہ میر درد دہلی میں 1720ءمیں پیدا ہوئے اور ظاہری و باطنی کمالات اور جملہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے۔ درویشانہ تعلیم نے روحانیت کو جلا دی اور تصوف کے رنگ میں ڈوب گئے۔ انہوں نے تصوف کو صرف روایت سے مجبور ہو کر نہیں اپنایا بلکہ وہ خود ایک باعمل صوفی تھے۔آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر دنیا ترک کی اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔ درد نے شاعری اور تصوف ورثہ میں پائے۔ ان کے مزاج میں اعتدال ، توازن،حلم ، تحمل اور بردبادی کی صفات موجود تھیں۔ قناعت اور خوداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ذاتی تقدس، خودداری، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیر غریب بادشاہ فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے۔ درد کی شاعری میں الفاظ کا طنطنہ بھی ہے اور تراکیب کی چستی بھی ایسے اشعار بھی ہیں جن میں تراکیب کا حسن اور شکوہ شعر کی ظاہر ی شکل کو دلکشی اور معنویت بخشتی ہے
وہ ایک باعمل صوفی تھے بقول عظمت اللہ :”خواجہ میر درد اردو ادبیات میں صوفیانہ شاعری کے باوا آدم تھے“ اور دولت و ثروت کو ٹھکرا کر درویش گوشہ نشین ہو گئے تھے۔ درد نے 1785ءمیں وفات پائی اور وہی جہاں تمام عمر بسر کی تھی مدفن قرار پایا۔ درد کو بچپن ہی سے تصنیف و تالیف کا شوق تھا۔ متعدد تصانیف لکھیں جو فارسی میں ہیں۔ نظم میں ایک دیوان فارسی اور ایک دیوان اردو میں ہے۔
شیخ امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش 1772کو فیض آبادمیں پیداہوئے ۔انکے والد کانام شیخ خدابخش لاہوری تھا، ناسخ کو ورزش اور پہلوانی کابہت شوق تھا۔ خوش خوراک، خوش لباس اورخوش وضع انسان تھے اوراس پر مستزاد بااخلاق اورمہذب بھی تھے۔ شیخ صاحب نہ صرف جسمانی لحاظ سے پہلوان تھے بلکہ انہوں نے اردوزبان میں جومہارت حاصل کی تھی اوراس کی جس طرح تحقیق کرکے آبیاری کی ، اسی وجہ سے انہیں پہلوان سخن کاخطاب دیاگیاہے۔امام بخش بچپن میں لکھنو چلے آئے اوریہاں فارسی اورعربی کی تعلیم حاصل کی۔ ناسخ کاسب سے بڑاکارنامہ اصلاح زبان ہے۔
یہ مضمون ایسے بناتے ہیں جن کی بنیاد فکر و خیالات پر ہوتی ہے بہ نسبت واقعہ اور حکایت کے، ان کے اشعار کی خوبی یہ ہے کہ پہلے مصرعہ میں ایک دعوی کیا جاتا ہے۔ ناسخ میرکے بھی معتقدتھے ، جس کااظہارغالب نے اس شعرمیں کیاہے۔
غالب اپنایہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جومعتقد میرنہیں
شیخ امام بخش ناسخ نے 16اگست 1838ء کو لکھنئو میں وفات پائی۔انکے کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں ، قطعات ، تاریخیں اور ایک مثنوی ”نظم سیراج ”شامل ہیں۔
بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی ، آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ خواجہ صاحب کی ابتدائی عمر تھی اور استعداد علمی تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ طبیعت مشاعروں میں کمال دکھانے لگی۔ مصحفی کے شاگرد تھے اور حق یہ ہے کہ ان کی آتش بیانی نے استاد کے نام کو روشن کیا بلکہ کلام کی گرمی اور چمک کی دمک نے استاد شاگرد کے کلام میں اندھیرے اُجالے کا امتیاز دکھایا۔
تقریباً انتیس سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا۔ آپ کے کلام میں بول چال ،محاورے اور روز مرہ کا لطف بہت ہے۔ بقول محمد حسین آزاد ان کے کلام میں بعض ایسے الفاظ ہیں جو دلی اور لکھنؤ کی زبان میں پورب پچھم کا فرق کو دکھاتے ہیں دلی والے اندھیری کہتے ہیں
اور انہوں نے اندھیاری باندھا ہے۔
آخری وقت میں بنیائی جاتی رہی۔ 1846ءمیں انتقال ہوگیا۔
بچپن کی معمولی تعلیم کے بعد جب آپ نے ہوش سنبھالا تو آپ کے والد نے آپ کو شاہ عبدالعزیز کی خدمت میں بھیج دیا، شاہ صاحب ہی سے آپ نے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں ۔ چچا غلام حیدر خاں اور غلام حسن خان سے طب کی کتابیں پڑھیں۔ شاعری کے علاوہ نجوم اور موسیقی وغیرہ میں علوم میں کمال و مہارت حاصل کی۔ علم نجوم میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ بڑے بڑے منجم سن کر حیران رہ جاتے تھے۔
شطرنج سے انہیں کافی لگاؤ تھا جب کھیلنے بیٹھتے تو دنیا ومافیھا سے بے نیاز ہوجاتے تھے۔ گھر کے نہایت اہم کام بھی بھول جاتے تھے۔
شعرو سخن سے انہیں طبعی مناسبت تھی ،عاشق مزاجی نے انہیں اور بھی چمکادیا تھا۔ ابتدا میں شاہ نصیر کو اپنا کلام دکھایا لیکن چند دنوں کے بعد ان سے اصلاح لینی چھوڑدی اور پھر کسی کو استاد نہیں بنایا۔ انہوں نے کسی کی تعریف میں کبھی قصیدہ نہیں پڑھا۔ شاعری کو انہوں نے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔
کوٹھے سے گرنے کے بعد انہوں نے حکم لگایا تھا کہ پانچ دن یا پانچ مہینے یا پانچ برس میں مرجاؤں گا۔ چنانچہ پانچ مہینے کے بعد 1851 ھ دلی میں انتقال ہوا۔ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
خواجہ حیدر علی آتش
آتش تخلص ، خواجہ حیدر علی نام، باپ دلی کے رہنے والے تھے۔ لکھنؤ میں جا کر سکونت اختیار کی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ علی بخش تھا، نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی ، آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ خواجہ صاحب کی ابتدائی عمر تھی اور استعداد علمی تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ طبیعت مشاعروں میں کمال دکھانے لگی۔ مصحفی کے شاگرد تھے اور حق یہ ہے کہ ان کی آتش بیانی نے استاد کے نام کو روشن کیا بلکہ کلام کی گرمی اور چمک کی دمک نے استاد شاگرد کے کلام میں اندھیرے اُجالے کا امتیاز دکھایا۔
تقریباً انتیس سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا۔ آپ کے کلام میں بول چال ،محاورے اور روز مرہ کا لطف بہت ہے۔ بقول محمد حسین آزاد ان کے کلام میں بعض ایسے الفاظ ہیں جو دلی اور لکھنؤ کی زبان میں پورب پچھم کا فرق کو دکھاتے ہیں دلی والے اندھیری کہتے ہیں
اور انہوں نے اندھیاری باندھا ہے۔
آخری وقت میں بنیائی جاتی رہی۔ 1846ءمیں انتقال ہوگیا۔
مومن خان مومن
نام مومن خاں اور تخلص مومن تھا، غلام نبی خاں کے گھر میں دہلی میں مومن 1800ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد غلوم نبی خاں کو شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے کافی عقیدت تھی، جب آپ پیدا ہوئے تو شاہ صاحب نے ہی آپ کے کانوں میں اذان دی اور مومن نام رکھا. اگرچہ آپ کے گھر والوں کو یہ نام ناپسند تھا اور اسی لیے وہ حبیب اللہ نام رکھنا چاہتے تھے لیکن آپ نے شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔بچپن کی معمولی تعلیم کے بعد جب آپ نے ہوش سنبھالا تو آپ کے والد نے آپ کو شاہ عبدالعزیز کی خدمت میں بھیج دیا، شاہ صاحب ہی سے آپ نے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں ۔ چچا غلام حیدر خاں اور غلام حسن خان سے طب کی کتابیں پڑھیں۔ شاعری کے علاوہ نجوم اور موسیقی وغیرہ میں علوم میں کمال و مہارت حاصل کی۔ علم نجوم میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ بڑے بڑے منجم سن کر حیران رہ جاتے تھے۔
شطرنج سے انہیں کافی لگاؤ تھا جب کھیلنے بیٹھتے تو دنیا ومافیھا سے بے نیاز ہوجاتے تھے۔ گھر کے نہایت اہم کام بھی بھول جاتے تھے۔
شعرو سخن سے انہیں طبعی مناسبت تھی ،عاشق مزاجی نے انہیں اور بھی چمکادیا تھا۔ ابتدا میں شاہ نصیر کو اپنا کلام دکھایا لیکن چند دنوں کے بعد ان سے اصلاح لینی چھوڑدی اور پھر کسی کو استاد نہیں بنایا۔ انہوں نے کسی کی تعریف میں کبھی قصیدہ نہیں پڑھا۔ شاعری کو انہوں نے ذریعہ معاش نہیں بنایا۔
کوٹھے سے گرنے کے بعد انہوں نے حکم لگایا تھا کہ پانچ دن یا پانچ مہینے یا پانچ برس میں مرجاؤں گا۔ چنانچہ پانچ مہینے کے بعد 1851 ھ دلی میں انتقال ہوا۔ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد اویس مصباحی
No comments:
Post a Comment