Sunday, 10 February 2019

اتحاد زندگی ہے، اختلاف موت

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
اتحاد زندگی، اختلاف موت
آج امت مسلمہ جن مصیبتوں، دقتوں اور پریشانیوں سے دوچار ہے وہ سب پر عیاں اور ہویدا ہیں، کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہے، جن مسائل میں امت مرحومہ کو الجھاکر اس کے شیرازے کو منتشر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ اپنے آپ میں دکھ اور رنج و غم سے پر ایک مثلِ داستان ہے، اس سوچ میں لیل و نہار بسر ہورہے ہیں کہ اس پہ ہر دن ایک نیا نشتر زخم دینے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمارے آپسی اختلافات، جھگڑے، طنز، ایک دوسرے پہ بہتان تراشی، بد زبانیاں ان زخموں کو ناسور بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہی ہیں، ہمارے انھی اختلافات کا فائدہ اٹھاکر غیر مسلم اقوام اور دیگر باطل و گمراہ عقیدے والے امت مسلمہ کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد کے نام پر بندی خانہ میں ڈالا جارہا ہے، مدارس اسلامیہ کے طلبہ کو چن چن کر مارا جارہا ہے، ہر جگہ مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ کبھی مسلک کے نام پر امت مسلمہ میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کبھی مسلم ممالک کو آپس میں لڑاکر ان کے شیرازے کو منتشر کیا جارہا ہے۔ امت مسلمہ کو چھوٹے چھوٹے طبقوں میں بانٹ کر اور ان کے اتحاد و اتفاق کی کمر توڑ کر بآسانی اس کے مال و زر، جائداد اور خزانوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ اس پر مسلم ممالک کی خاموشی ایک المیہ ہے۔ جن بچوں کے روشن مستقبل سے ہمیں امیدیں وابستہ تھیں انھیں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ننھی لاشیں خاک کے سپرد ہورہی ہیں ،شریعت کو سر عام نیلام کیا جارہا ہے، مسلمانوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں، مسلم لڑکیاں آئے دن غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہورہی ہیں، ان کے مذہب کو اپنارہی ہیں۔ بڑی آسانی کے ساتھ مسلم لڑکیاں ان کے مذہب میں داخل ہو رہی ہیں۔ حکومت کا سہارا لیکر غیر مسلم لوگ، مسلمانوں کے خلاف ہر روز نت نئی فتنہ انگیزیاں اور شرپسندانہ کاروائیاں کرکے ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کررہے ہیں، مسلمان لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بنارہے ہیں، غیر مسلم لڑکوں کو اس کام کے لیے تیار کر رہے ہیں، کچھ لڑکیوں کے ذریعہ مسلم لڑکوں کو اپنے ہندو مذہب میں داخل کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ اسلام دشمن قوتیں جہاں اس کے لیے مال و زر فراہم کر رہی ہیں وہیں اپنی افرادی قوت کو بھی استعمال کر رہی ہیں۔ لیکن مسلم قائدین کو تو ابھی بس آپسی جھگڑوں اور اختلافات سے ہی فرصت نہیں ہے۔
آج ہم ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہیں حتی کہ نام نہاد دینداروں نے بھی اپنے اپنے آستانے الگ قائم کرلیے ہیں، الگ تنظیمیں بنالی ہیں، الگ ادارے قائم کرلیے ہیں، چلو یہ تو مسئلہ نہیں ہے کہ اس طرح قائم کیے جائیں لیکن وہ قلبی لحاظ سے بھی علیحدہ علیحدہ ہوگئے ہیں اور یہ بہت زیادہ خطرناک ہے تو پھر دنیادار لوگوں کا معاملہ ہی الگ ہے۔ لیکن شاید کہ کسی کو اس کی پرواہ ہو، اہل علم حضرات سے اس کی کچھ توقع ہوسکتی تھی لیکن اہل علم و دانش اور قائدین کو تو ابھی اسٹیج پہ لڑنے، جھگڑنے، چیخنے، چلانے اور ایک دوسرے پہ آگ اگلنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔ تکفیر مسلم کو اپنا ہتھیار سمجھ کر بیجا اس کا استعمال کرکے آپس میں ایک دوسرے کو خارج از اسلام کرنے کی ناکام اور رائیگاں انتھک جدوجہد کررہے ہیں۔ اپنے علاوہ کسی کو مسلمان سمجھتے ہی نہیں ہیں، دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں، جنھیں کلمہ صحیح طریقے سے پڑھنا نہیں آتا ہو، تکفیر مسلم کے معنی سے بھی ناآشنا ہوں، حلال و حرام کے فرق سے بھی ناواقف ہوں، تارکین صوم و صلاۃ ہوں، آج وہی لوگ اہل سنت کی عظیم خانقاہوں کے سجادہ نشیں بن کر امت مسلمہ کے شیرازے کو منتشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں،ایک دوسرے پر کفر و الحاد کے فتوے لگا رہے ہیں، حدیث رسول "إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ" جب (معاملات) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو" کے کامل مصداق نظر آتے ہیں، ایک وقت تھا کہ انھیں خانقاہوں سے اتفاق و اتحاد کا نعرہ بلند ہوتا تھا، فقراء، یتامی، مساکین اور ضرورت مندوں کی امداد کی جاتی تھی، تعلیم کے لیے پیسہ اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کا انتظام و انصرام کیا جاتا تھا لیکن آج کچھ خانقاہوں سے اختلاف و انتشار کا پیغام دوسرے لوگوں تک جارہا ہے۔
آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا؟ آخر کب تک اس طرح امت مسلمہ کے شیرازے کو منتشر کیا جائے گا؟ لیکن کیا علمائے اہل سنت میں آپسی اتحاد ناممکن ہے؟ حالاں کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے "وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا" اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، آج ہم نے فرمانِ الٰہی کو پس پشت ڈال دیا ہے، دوسرے لوگوں کے طریقہ کار کو اپنا مشن بنالیا ہے۔
سنن ابن ماجہ، کتاب العقوبات کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مھاجرین کو مخاطب کرکے پانچ چیزیں ارشاد فرمائیں، ان میں سے آخری دو باتیں یہ ہیں کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے لگتے ہیں تو اللہ تعالی ان کے علاوہ دشمنوں میں سے کسی کو ان پر مسلط کردیتا ہے تو وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اسے چھین لیتا ہے، اور جب لوگ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان میں آپس میں پھوٹ ڈالدیتا۔ 
تقریبا ساڑھے چودہ سو سال بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی مکمل ہورہی ہے، امت مسلمہ نے اللہ و رسول کے احکام پر چلنا چھوڑ دیا ہے، اللہ و رسول کے عہد کو توڑنے لگے ہیں، قرآن و سنت پر عمل کرنا ترک کردیا ہے، رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کو اپنا آئڈیل بنانے میں شرم محسوس کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، "لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ" فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم آپسی اختلافات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔
ہم اپنے اسلاف کے طریقے کو اپنانے میں ججھک محسوس کرتے ہیں، ان کے خیالات اور اقوال زریں پر عمل کرنے کو برا جانتے ہیں، اس دور میں ضرورت ہے کہ ہم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اس فرمان "اتحاد زندگی ہے، اختلاف موت" پر عمل پیرا ہوں تو امید قوی ہے کہ امت مسلمہ کو پیش آمدہ مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ آپسی اختلافات اور جھگڑوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے، غیر مسلم اقوام کو ہم مات دے سکتے ہیں، ان کے بالمقابل فتح و نصرت حاصل کرسکتے ہیں، اپنے مدارس اور مساجد کی حفاظت کرسکتے ہیں۔
جب تک تمام مسلمان خواہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہوں سیاست کے نام پر یکجا نہیں ہوں گے، تب تک اسی طرح غیر مسلم اقوام کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ تمام مکتبہ فکر والے اپنے مسلک کے تابع رہتے ہوئے حکومت و سرکار کے بالمقابل سینہ سپر رہیں تو ہم ان ظالموں کے پنجہ استبداد سے بآسانی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یاد رکھیے جب ہندو یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا غیر مسلم، مسلمان پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کا نشانہ صرف مسلمان ہوتا ہے سنی یا دیوبندی نہیں۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب کوئی اس طرح کی بات کرتا ہے تو دونوں طرف سے اس پر کفر و الحاد کے فتوے لگائے جاتے ہیں، ہمارے آپسی اختلافات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ امت مسلمہ کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے پر بھی کفر کے فتوے لگائے جارہے ہیں، انہیں اختلافات کا نتیجہ یے کہ ہمارے ملک کی غیر مسلم اقوام نے جمہوری طرز حکومت کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچنا شروع کردیں ۔مسلم قوم میں مسلک کے نام پر پھوٹ ڈال کر اس کے شیرازے کو حتی المقدور منتشر کرنے کی کوشش کی اور کی جارہی ہے۔ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی بات کی جارہی ہے، مسلم نام سے موسوم شہر قصبوں کے اسماء کو تبدیل کیا جارہا ہے، تاریخی مساجد کو شہید کرکے ان کے مقام پر مندر بنانے کی بات کی جارہی ہے، غیر مسلم اقوام کی نگاہیں صرف مسجدوں پر ہی نہیں ہیں بلکہ مدارس اور اس میں احکام خدا اور فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دلوں کو مزین کرنے والے طلبہ کو بھی یہ ہندو توا تنظیمیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں، ایک طرف جنید و عظیم کو قتل کردیا گیا تو دوسری جانب جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے سال گزشتہ فارغ ہونے والے مولانا نسیم مصباحی کو بنارس کے ایک کالج کے سامنے کچھ شر پسندوں نے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔
اگر یہی حال رہا تو ہم اس مصرعے "تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں" کے کامل مصداق بن جائیں گے۔ کم از کم علمائے اہل سنت اس حاجت شدیدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے سے پرہیز کرتے ہوئے جماعت اہل سنت کے افراد کو یکجا کرنے کی کوشش 
کریں تو یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

محمد اویس مصباحی

No comments:

Post a Comment