Thursday, 21 March 2019

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مثالی معاشرہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مثالی معاشرہ
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بکعبہ  ولادت  بمسجد  شہادت

مولائے کائنات، خلیفہ چہارم، داماد مصطفے وزوج بتول فاطمۃ الزہراء امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل اور کمالات کے بارے میں کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہیں جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے گا اتنا زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اولا ذیل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے، اس کے بعد ایک مثالی سماج کے لیے آپ کی زندگی کے کچھ اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
مختصر تعارف : مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی ولادت باسعادت فاطمہ بنت اسد کے بطن سے ایک روایت کے مطابق اندرون خانہ کعبہ ١٣ رجب بروز جمعہ مبارکہ ٣٠ عام الفیل مطابق ٥٩٩ءمیں ہوئی۔
 آپ کا نام ولادت کے وقت اسد تھا لیکن بعد میں جب حضرت ابو طالب کو پتہ چلا تو انھوں نے آپ کا نام علی رکھ دیا۔ آپ کی کنیت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت سے ابو الحسن قرار پائی، ابو تراب بھی آپ کی کنیت بیان کی جاتی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرحمت فرمائی تھی، مذکورہ بالا کنیتوں کے علاوہ ابو الحسین، ابو القاسم الھاشمی اور ابو السبطین بھی شامل ہیں۔
آپ کے والد کا اسم گرامی ابو طالب بن عبد المطلب ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبد اللہ کے حقیقی بھائی ہیں اور آپ کی والدہ محترمہ فاطمہ بنت اسد سے موسوم ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں، صغرسنی میں بعض وجوہ کی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں آگئے اور دربار نبوت سے آخر تک جڑے رہے۔
 قبول اسلام : جب کوہ صفا پر چڑھ کر حضور نے اعلان نبوت کیاتو آپکی آواز پر کسی نے بھی کان نہیں دھرا، مگر حضرت علی جو اس وقت عمر میں صرف ١٥ سال کے تھے، نے کہا: ”گوکہ میں عمر میں چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کی تکلیف ہے، اورمیری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم آپ کا باور دست و بازو بنوں گا۔ اس طرح آپ دس یا آٹھ سال کی عمر میں مشرف با اسلام ہوئے۔
ازواج و اولاد : سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے ان کے تین بیٹے امام حسن، امام حسین اور حضرت محسن رضی اللہ عنھم اور دو صاحبزادیاں ام کلثوم اور زینب رضی اللہ عنھما پیدا ہوئیں، سیدۃ نساء اہل الجنہ حضرت فاطمہ الزہراء حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے پہلی بیوی تھیں۔ ان کی موجودگی میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ بقیہ بیویوں سے آپ کے چودہ بیٹے اور انیس یا سترہ بیٹیاں تھیں۔
شکل و شباہت : ابن عبد البر تحریر کرتے ہیں "حضرت علی میانہ قد تھے، آنکھوں کی سیاہی انتہائی سیاہ اور سفیدی انتہائی سفید تھی، چودھویں کے چاند کی طرح خوبصورت تھے، ڈاڑھی مبارک بڑی تھی، دل کے بہت مضبوط اور بہادر و طاقتور تھے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب)
 کارہائے نمایاں : جس وقت آپ کی عمر ۲۲ سال کی تھی آپ اپنی جان کی بازی لگاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے نکل گئے۔ اس کے تین دن بعد خود بھی حضور سے جاملے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو مظاہرہ کیا اور جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ آپ کی زندگی کا اہم باب ہیں، سوائے جنگ تبوک کے آپ نے ہر جنگ میں شرکت کی اور داد شجاعت دیا۔ فاتح خیبر آپ ہی ہیں، ٢١ ذی الحجہ دوشنبہ کے دن مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جناب علی مرتضی ٰ کے دست اقدس پر بیعت ہوئی۔ کل ٤ سال نو مہینے حکومت کرسکے۔ ٤٠ ھ میں آپ مالک حقیقی سے جا ملے۔
حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم اور ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل
مولا علی کرم اللہ وجھہ الکریم نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کی سر بلندی اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے وقف کر دی تھی۔ آپ نے رسول خدا کا پیغام انتہائی فصاحت و بلاغت سے حاضرین تک پہنچا کر ثابت کر دیا کہ اہلِ بیت نبوت کا ذکر تا قیامت زندہ رہے گا۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم بیک وقت صاحب سیف و قلم تھے ۔آپ کا ہر لمحہ عبادت خدا وندی میں گزرتا تھا آپ در رسالت سے ابتدائی عمر سے آخر تک جڑے رہے، اس لیے آپ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے جو طرز عمل اور اخلاق و کردار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اسی کو حضرت علی نے اپنی زندگی میں نافذ کیا اسی لیے آپ نے اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق بسر کی، آپ بے سہاروں کا سہارہ بنتے اور ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرتے او ر فرماتے اے لوگوں ہر ظالم کے مخالف رہنا اور ہر مظلوم کے حامی و ناصر رہنا، آپ نے حکومت کی تشکیل بھی اس انداز میں کی کہ اس کے ذریعہ مثالی معاشرہ کو مستحکم کیا جاسکے، حضرت امیر المومنین ابو تراب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ تمام عالم اسلام کے لیے مشعل راہ ہے امام عالی مقام نے ہمیشہ بھائی چارے کا درس دیا اور امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی تلقین کی۔ اگر ہم بھی امام علی ؑکے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہوں تو پوری دنیا کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے ۔اگرمولا علی کے طرز حکومت پر امت مسلمہ کے حکمران عمل پیرا ہوں تو پوری دنیا کو امن و آشتی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے ۔علی ابن ابی طالب نے جنگ احد، جنگ صفین، بدر و خندق کے میدان میں پرچم اسلام کو ہمیشہ کے لیے سربلندی و سرفرازی عطاء کی آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرت علی ابن ابی طالب پر عمل پیرا ہوں تبھی دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ حضرت مولا علی کی حیات طیبہ کے کچھ نمونے کہ جنھیں اپنے معاشرہ کی تشکیل کے لیے اپنانا چاہیے، رقم کیے جاتے ہیں۔
سیدہ فاطمہ زہراء کے ساتھ برتاؤ : سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فاطمہ زہراء کے ساتھ گھریلو انتظامی امور میں جو برتاؤ تھا اس کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے، ایک آئیڈیل فیملی کی تشکیل کے لیے ان کے اخلاق کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس پر عمل کریں، جو مشعل راہ ہیں، آپ کی سوانح عمری کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی باوجود غربت و افلاس کے اپنی زوجہ محترمہ خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی راحت رسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، خود بھوکے رہ جاتے مگر اپنی اہلیہ کے خورد و نوش کا انتظام فرماتے۔ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ بھوکی تھیں تو آپ یہودی کے باغ میں تشریف لے گئے، محنت و مشقت کرکے ان کے کھانے کے لیے کچھ کھجوریں لے آئے۔
سیدہ فاطمہ زہرا کی تدفین کے بعد آپ نے فرمایا کہ "۔۔۔۔۔۔اگرچہ میں یہاں سے واپس چلا جاؤں گا لیکن میری تکلیف اور حزن و ملال ختم نہیں ہوگا" (نھج البلاغۃ)  اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سیدہ فاطمہ سے کس قدر محبت کیا کرتے تھے۔
چھوٹے بڑے کا ادب و احترام : ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں بڑے اور چھوٹے کا ادب و احترام اور شفقت و ہمدردی ازحد ضروری ہے۔ ایک باپ کے لیے ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ شفقت و ہمدردی سے پیش آئے بلکہ سماج کے اور دوسرے بچوں کے لیے بھی اس کے دل میں محبت و ہمدردی ہونی چاہیے۔ انھیں اچھی تعلیم و تربیت دیں، اس کے برعکس چھوٹوں کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ ادب و احترام کا مظاہرہ کریں۔ یہ تمام خوبیاں جو سراسر اخلاق پر مبنی ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں بدرجہ اتم موجود تھیں، آپ دوسرے لوگوں کو بھی اس طرح کا برتاؤ کرنے کی نصیحت کرتے چنانچہ آپ فرماتے ہیں "”باپ کا بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر حق ہے۔ باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر حال میں اس کی اطاعت کرے، الا یہ کہ باپ کسی معصیت کی بات کا حکم دے، اس میں اس کا اتباع نہ کیا جائے، اور باپ پر بیٹے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اچھی تربیت کرے اور قرآن پڑھائے۔“ (نھج البلاغۃ)
 معاشرہ کو مثالی بنانے کے لیے فقراء ومساکین کی حاجت کی تکمیل ضروری ہے : ایک بہترین سماج اور معاشرہ کی تشکیل کے لیے ایک دوسرے کی نصرت و حمایت کرنا اور ان کی حاجت روائی کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے، یہ صفات بھی آپ کی ذات میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں، ہمیشہ آپ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنھما بیمار ہوئے تو سیدہ فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی، اللہ تعالیٰ نے حسنین کریمین کو صحت عطا فرمائی، نذر کی وفا کا وقت آیا تو سیدہ فاطمہ اور حضرت علی نے روزے رکھے، حضرت علی ایک یہودی سے تین صاع جو لائے، حضرت خاتون جنت نے تینوں دن ایک ایک صاع پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین، ایک روز یتیم اور ایک روز اسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دیدی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا (تفسیر خزائن العرفان، ص:٨٤٣)
اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اس تعلق سے ایک آیت کریمہ نازل فرمادی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "وَ یُطۡعِمُوۡنَ  الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ  یَتِیۡمًا  وَّ  اَسِیۡرًا" (سورة الدهر، الآية:٨) اور اپنا کھانا اﷲ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں۔ 
 اگر ہم بھی حضرت علی کے اس طریقہٴ کار کو اپنالیں تو سماج میں جو لوگ بھوکوں مررہے ہیں اور کھانے کے لیے دردر بھٹک رہے ہیں، ان سے اس بھوک مری کا خاتمہ ہوجائے گا۔
ایک بہترین سماج و معاشرہ کی تشکیل اقوال علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی روشنی میں : حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کے اقوال پر اگر عمل کیا جائے تو مجھے یقین کامل ہے کہ دنیا سے تمام برائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا، سماج میں سدھار آجائے گا، سوسائٹی کے لوگ امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کریں گے، اسلام کی عظمت رفتہ بحال ہوجائے گی۔

مثالی معاشرہ کی تشکیل اتحاد کے بغیر ناممکن : آج امت مسلمہ انتشار کا شکار ہے، آپسی انتشار اور جھگڑوں کو مسلمانوں نے اپنا مشغلہ بنالیا ہے، ساری دنیا اسلام کو مٹانے کے درپہ ہے اور مسلمان ایک دوسرے کی تکفیر کرکے امت مسلمہ کے شیرازے کو منتشر کررہے ہیں، اسلامی معاشرہ میں سدھار اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک کہ مسلمان اتحاد کا پیغام نہ دیں، نہج البلاغہ میں ایک صالح، مثالی اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے لیے اتحاد پر زور دیتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں۔ 
"والزموا السواد الأعظم فإن يد الله مع الجماعة وإياكم والفرقة فإن الشاذ من الناس للشيطان كما أن الشاذة من الغنم للذئب" (محمد عبدہ، شرح نهج البلاغة، الجزء الأول، ص:٢٦١)


مسلمانوں کے بڑے گروہ کے ساتھ رہو اس لیے کہ اللہ کا دست قدرت جماعت کے ساتھ ہے، تفرقہ بازی سے بچو کیونکہ لوگوں سے الگ تھلگ رہنے والا شیطان کا لقمہ ہوتا ہے جس طرح ریوڑ سے الگ رہنے والی بکری بھیڑیے کا شکار ہوجاتی ہے۔
لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اجتماعات میں اپنے شب و روز بسر کرے، تفرقہ بازی سے پرہیز کرے۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی کی بقا کا اہم راز اتحاد ہی میں پوشیدہ ہے، مثالی معاشرہ کی ایک خصوصیت لوگوں کا آپسی اتحاد اور بھائی چارہ ہے۔
مثالی معاشرہ کی تشکیل حقوق العباد کی تکمیل کے بغیر ناممکن : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سارے حقوق ہوتے ہیں جن کی بجا آوری ہر مسلمان کا فریضہ ہے، اس کے بنا ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :"اعلم أن الرعية طبقات لا يصلح بعضها إلا ببعض۔۔۔۔"  (شیخ محمد عبدہ، شرح نهج البلاغة، الجزء الأول، ص:٩٢) اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رعیت اور عوام کے کئی طبقات ہیں جن کی فلاح اور بہبود ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ نے معاشرہ کے سات طبقات کا ذکر فرمایا اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ "اللہ نے ہر ایک کا حق متعین کردیا اور اپنی کتاب یا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی حد متعین کردی ہے"۔

لہذا اسلامی معاشرہ کے تمام افراد پر ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں، اس لیے کہ ان تمام کی فلاح و بہبود ایک دوسرے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
 مثالی سماج کی تشکیل قرآن و سنت اور سیرت اہل بیت اطہار پر عمل پیرا ہوکر ہی ہوسکتی ہے : اللہ اور رسول کو چھوڑ کر ہم کسی بھی میدان میں سرخروئی حاصل نہیں کرسکتے۔ اہل بیت اطہار کو نظر انداز کر کے دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران نہیں ہوسکتے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساری عمر انھی تینوں کو مضبوطی سے تھامے رہنے پر زور دیتے رہے، اور یہی تعلیم حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم اپنے اصحاب کو دیتے رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مطابق اسلامی معاشرہ کا سب سے بہترین ہادی قرآن ہے، آپ فرماتے ہیں : "عليكم بكتاب الله فإنه الحبل المتين والنور المبين....." (شیخ محمد عبدہ، شرح نهج البلاغة، الجزء الأول، ص:٣٠٣) تم پر لازم ہے کہ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کرو اس لیے کہ یہ مضبوط رسی اور روشن نور ہے۔ 

حضرت علی کے نزدیک سیرت رسول پر عمل کرنا اسلامی معاشرہ کا ایک اہم رکن ہے، آپ فرماتے ہیں : "تم اپنے نبی کی اقتدا کرو اس لیے کہ یہ افضل ترین ہدایت ہے" (شیخ محمد عبدہ، شرح نهج البلاغة، الجزء الأول، ص:٢٣٣)
قرآن و سنت کو سمجھنے کے لیے اہل بیت اطھار کی سیرت و کردار کو اپنانا ضروری ہے، اس لیے کہ ان کا اہل بیت سے زیادہ علم کسی کے پاس نہیں، اس بارے میں آپ فرماتے ہیں "نحن الشعار والأصحاب والخزنة والأبواب.." (شیخ محمد عبدہ، شرح نهج البلاغة، الجزء الأول، ص:٢٩٧) ہم اہل بیت دین کے نشان ہیں اور اس کے ساتھی ہیں، ہم ہی اس کے خزانچی اور دروازہ ہیں۔ یعنی اہل بیت اللہ کی آیات و نشانی ہیں، یہی رحمٰن کے خزانہ دار ہیں، یہ جب بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اور جب قدم آگے بڑھاتے ہیں تو کوئی بھی ان پر سبقت نہیں لے جاسکتا۔ لہذا اگر ہم اپنے سماج کو مثالی بنانا چاہتے ہیں تو مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق، قرآن و سنت پر عمل کریں اور اہل بیت اطھار کے طریقہ کار کو اپنا شعار بنائیں۔
مثالی معاشرہ کی تشکیل رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کو اپناکر ہی ممکن ہے : ہمارے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نمونہ عمل ہے، اسوہ حسنہ کو اپناکر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے" لہذا انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم کی ذات کے مختلف پہلوئوں کا دقت نظر سے مطالعہ کیاجائے اور اُسے معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ایک مثالی معاشرہ وجود میں آسکے۔ امیر المومنین علی کرم اللہ وجھہ الکریم نے بھی اس بات پر کافی زور دیا ہے ،آپ فرماتے ہیں : "وَلقد کان فِی رَسُولِ اللّٰہِ کافٍ لَکَ فِی الْاسْوَةِ وَدَلِیل لَکَ عَلٰی ذَمِّ الدُّنیا وعَیبھَا وکَثْرَةِ مَخَازِیھَا۔۔۔۔۔" یقینا رسول اکرم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے آپ کی ذات دنیا کے عیوب اور اس کی ذلت و رسوائیوں کی کثرت کو دکھانے کے لیے راہنما ہے۔۔۔۔آپ مزید فرماتے ہیں "تم لو گ اپنے طیب و طاہر پیغمبر کی پیروی کرو چونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والوں کے لیے بہترین نمونہ اور صبر و سکون کے طلب گاروں کے لیے بہترین سامان صبر و سکون ہے"۔ (نھج البلاغۃ)
 مثالی معاشرہ کے لیے سماج کے افراد کا علم سے آراستہ ہونا ضروری ہے: علم سیکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، علم ایک ایسی نفیس شی ہے جس کے بنا انسان ادھورا ہے، کسی بھی سماج کے ترقی یافتہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد تعلیم یافتہ ہوں، باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم نے بھی علم پر کافی زور دیا ہے، آپ کا شمار فقھاء صحابہ میں ہوتا ہے، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقام پر فرمایا "لولا علی لھلک عمر" اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمی معاشرہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : واعلم أن عباد الله المستحفظين علمه ويصونون مصونه...... یاد رکھو اللہ کے وہ بندے جنھیں اس نے اپنے علم کا محافظ بنایا ہے، وہ اس کا تحفظ کرتے ہیں۔ (نهج البلاغة، ص:٤٥٦) ایک دوسرے مقام پر آپ علما کو علم پر عمل کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں، " يا حملة العلم اعملوا به" اے حاملینِ علم کی جماعت علم پر عمل کرو۔ آپ علم کو بہترین شرافت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں، "أشرف الشرف العلم" بہترین شرافت علم ہے (غرر الحكم، باب العلم) بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علم کو زندگی کی بقا و تحفظ کا ذرہعہ قراردیا ہے، آپ فرماتے ہیں، "اكتسبوا العلم يكسبكم الحياة" علم حاصل کرو وہ تمھارے لیے حیات ابدی کو حاصل کرےگا۔ (غرر الحکم، باب العلم) علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، "العالم حي وإن كان ميتا" عالم باحیات ہے اگرچہ وہ مرچکا ہو (غرر الحکم، باب العلم) 
 لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرہ کو علم سے آراستہ کریں، اس لیے کہ علم ہی سے انسان کی دنیا و آخرت ہے۔ آج دنیا میں جتنی بھی ترقی اور آسودگی ہے وہ علم کا نتیجہ ہے، بیشک علم انسان کا بہترین جمال اور نفیس گوہر ہے۔
لہذا ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ رشتوں اور تعلقات کو برقرار رکھا جائے، چھوٹے بڑے کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، قرآن و سنت اور سیرت اہل بیت اطہار پر عمل کیا جائے، معاشرے کو علم کی روشنی سے آراستہ کیا جائے، یہ تمام خوبیاں حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی زندگی میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں، اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ ایک مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے حضرت علی کی زندگی ہمارے لیے نمونہ عمل ہے۔ اس پر عمل پیرا ہوکر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اور اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

محمد اویس مصباحی






No comments:

Post a Comment