بسم اللہ االرحمم الرحیم
غزل کی صنفی خصوصیات
غزل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں محبوب یا محبوبہ سے باتیں کرنا یا اس سے متعلق باتیں کرنا، شروع سے اس کا تعلق معاملات حسن و عشق سے لازمی طور پر رہا ہے، لیکن دھیرے دھیرے اس کے دائرے میں وسعت بھی آئی ہے، زندگی اور زمانہ یعنی حیات و کائنات کا شاید ہی کوئی مسئلہ ہوگا جس کا ذکر غزل میں نہ ہوا ہوگا۔ کم و بیش ہر شاعر نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ اسی لیے اشعار کی سب سے بڑی تعداد اسی صنف میں ملتی ہے۔ جس طرح فارسی شاعری میں غزل سب سے ممتاز اور محبوب صنف تھی اسی طرح اردو میں بھی اسے یہ امتیاز حاصل رہا۔ غزل میں فکر کا عنصر دوسری اصناف کے مقابلہ میں زیادہ ہے اور اس کا معیار دن بہ دن بلند ہوتا رہا ہے۔ غزل کی سب سے اہم ایک خصوصیت یہ ہے کہ غزل چاہے جتی طویل ہو لیکن اس کا شعر ہر اعتبار سے ایک دوسرے سے لا تعلق ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دو مصرعوں میں شاعر اپنی بات اس طرح کہتا ہے کہ قطرہ میں دریا بند جاتا ہے۔
غزل کے تمام مصرعے ایک ہی بحر اور ایک ہی وزن پر ہوتے ہیں، غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ غزل میں پہلے مطلع کے بعد فورا دوسرا مطلع ہو تو اس کو حسن مطلع یا مطلع ثانی کہتے ہیں۔ بقیہ اشعار کے دوسرے تمام مصرعے ہم قافیہ یا ہم ردیف ہوتے ہیں جس کی تکرار شعر کے ہر دوسرے مصرعے میں ہوتی ہے۔ جیسے
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
یہ غزل کا پہلا شعر ہے اس کو مطلع کہیں گے، اس میں 'کیا ہے' شعر کے پہلے اور دوسرے مصرعہ میں آیا ہے اس کو ردیف کہتے ہیں یعنی بار بار دہرائے جانے والے ہم شکل الفاظ کو ردیف کہتے ہیں ۔ اس سے پہلے قافیہ ہوتا ہے جس کا آخری حرف یا آخری کے چند حروف یکساں ہوتے ہیں
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے از
یا الہی یہ ماجرا کیا ہے
یہ غزل کا دوسرا شعر ہے ان تمام اشعار میں ہوا، دوا، ماجرا اور برا غزل کے قافیہ کہلائیں گے۔غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں، جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔جیسے
ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے؟
اس شعر میں غالب تخلص استعمال ہوا ہے اسے مقطع کہیں گے۔ غزل میں عام طور پر قافیہ اور ردیف دونوں استمال کیے جاتے ہیں لیکن بعض غزلوں میں صرف قافیہ ہی کا استعمال ہوتا ہے۔ ایسی غزلوں کو غیر مردف غزل کہتے ہیں۔
غزل میں اشعار کی کوئی قید نہیں، چھ اشعار کی بھی غزل ہوسکتی ہے ،دس اشعار کی بھی غزل پوسکتی ہے اور زیادہ اشعار بھی غزل میں ہوتے ہیں۔ غزل میں فکر کا عنصر دوسری اصناف کے مقابلہ زیادہ ہے اور اس کا معیار دم بہ دن بلند ہوتا رہا ہے۔
محمد اویس مصباحی
بہت خوب شکریہ۔۔
ReplyDeleteFantastic
ReplyDelete