Saturday, 29 August 2020

عالمی یوم درود

 *بسم اللہ الرحمن الرحیم* 

 *الصلاۃ والسلام علیك يا رسول الله* 

     

              *🌷🌹عالمی یوم درود🌹🌷* 

≠≠======20/April=======≠≠

شفیعِ محشر، جانِ کائنات، خیرالوریٰ، رسالت مآب، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، مراد المشتاقین، راحۃ العاشقین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف بھیجنا نہ صرف کار ثواب ہے بلکہ اس میں ہمارے بہت سارے مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ درود شریف کے ذریعہ ہم بفضلہ تعالی دونوں جہاں کی دولت حاصل کرسکتے ہیں۔ درود ایک ایسا وسیلہ ہے جسے ہم اپنی تمام مشکلات، مصائب و آلام، آفات اور تمام طرح کی بیماریوں سے نجات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ قربِ خداوندی اور قربِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ 


آج ساری دنیا کورونا وائرس سے پریشان ہے، اس کے حل کے لیے عالمی پیمانہ پر طرح طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں، طرح طرح کی تدابیر اپنائی جارہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی کوشش یا کوئی بھی تدبیر کورونا سے بچاؤ کے لیے کامیاب نہ ہوسکی ہے۔ لیکن امید ہے کہ ان تدابیر کی مدد سے جلد ہی اس وائرس کو زیر کرنے میں کامیابی ملے گی۔عالمی سطح پر اس وائرس کا پھیلاؤ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں تقریبا 23 لاکھ افراد کووڈ-19 سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں وطن عزیز ہندوستان کے 14 ہزار سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔

عیسوی کیلنڈر کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش 20 اپریل ہے۔ اس موقع پر اگر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اس وائرس سے بچاؤ کی نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ کر دعا کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو رد نہیں فرمائے گا۔ اس لیے کہ جو دعا درود شریف پڑھ کر کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو رد نہیں فرماتا ہے۔ایک حدیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ نماز کے بعد بھی وہی دعا قبول ہوتی ہے جس نماز کے بعد دعا کرنے سے پہلے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود شریف کا نذرانہ پیش کردیا جائے چنانچہ امام ترمذی اور امام نسائی اپنی سنن میں، امام ابن خزیمہ اپنی صحیح میں، منذری الترغیب والترھیب میں، امام طبرانی المعجم الکبیر میں اور ہیثمی مجمع الزوائد میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور اس نے نماز ادا کی اور یہ دعا مانگی : ’’اے اﷲ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما.‘‘ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے نمازی! تو نے جلدی کی جب نماز پڑھ چکو تو پھر سکون سے بیٹھ جاؤ، پھر اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا کرو، اور پھر مجھ پر درود و سلام بھیجو اور پھر دعا مانگو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر ایک اور شخص نے نماز ادا کی، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے نمازی! (اپنے رب) سے مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا.‘‘ (1)


کنز العمال (حدیث نمبر 2154) کے مطابق جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے اس وقت تک ہر دعا قبولیت سے محروم رہتی ہے۔ بلکہ حضرت عمر بن خطاب کے بقول تو دعا اس وقت تک قبول ہی نہیں ہوتی جب تک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود شریف کا نذرانہ نہ پیش کیا جائے۔ امام ترمذی اور امام احمد وغیرہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق کوئی بھی ذکر کی محفل بھی اس وقت تک اللہ کی بارگاہ میں مقبولیت کو نہیں پہنچتی جب تک کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درود کا نذرانہ نہ پیش کردیا جائے۔ بلکہ ایسی مجلس ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز حسرت و افسوس کا باعث ہوگی۔  

اسی طرح یہ درود ہمارے غموں کو دور کرنے، مصائب سے نجات دلانے اور گناہوں کو مٹانے کا ایک اہم وسیلی ہے۔ چنانچہ امام ترمذی اپنی سنن میں، امام احمد اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ، امام حاکم مستدرک میں سندِ صحیح کے ساتھ، عبد بن حمید اپنی مسند میں، امام بیھقی شعب الایمان میں، مقدسی الاحادیث المختارہ میں، منذری الترغیب والترھیب میں اور ہیثمی مجمع الزوائد میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا : یا رسول اﷲ! کیا میں اپنی دعا (اور ذکر اَذکار) کا تیسرا حصہ آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کر سکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کر دوں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، پھر اس نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) کیا ساری کی ساری دعا (آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کر دوں)؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تواللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے تمام معاملات کے لیے کافی ہو جائے گا۔ (2) امام ترمذی کے آخری الفاظ ہیں "۔۔۔۔۔۔پھر تو یہ درود ہی تمہارے تمام غموں (کا مداوا کرنے) کے لیے کافی ہو جائے گا اور (اسی کے باعث) تمہارے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔(3)  


مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ درود شریف پڑھنے سے ہمارے مسائل حل ہوجاتے ہیں، مصیبتیں دور ہوتی ہیں، آفات ٹل جاتی ہیں، غم مٹ جاتے ہیں، دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ لہذا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پر بہار موقع پر اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ کر کورونا وائرس سے نجات کے لیے دعا کریں گے تو امید ہے کہ رب ذوالجلال اس بلا کو بھی ہم سے دور فرمادےگا۔۔۔۔۔ (ان شاء اللہ) 

*🌲≠≠===========≠=========≠≠🌲*

(1) جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء في جامع الدعوات عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم، حدیث نمبر : 3476

(2) المعجم الکبير، حدیث نمبر: 3574

(3) جامع الترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث نمبر : 2457

 

            *✍🏻✍🏻 محمد اویس مصباحی*

🌹≠≠=====20/4/2020=====≠≠🌹

 🥏_8393958994_ 8218918883

📧 uvaismisbahi77@gmail.com

*Published by :* _Faizan-e-Imam Abu Hanifa Organization_

No comments:

Post a Comment