*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہ*
*🌷کچھ شبِ برات کے حوالہ سے🌷*
*اللہ تعالی* نے بعض اشیاء کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے مثلاً رسولان عظام کوانبیاء عظام پر اور انبیاء عظام کو تمام مخلوق پر، ایک مومن کو تمام انسانوں پر، ایک ولی کو تمام مومنوں پر، ایک صحابی کو تمام ولیوں پر، رسول اکرم سرور عالم کو ساری کائنات پر۔اسی طرح ایک صدی کو دوسری صدی پر جیساکہ "خير القروني قرني"سے ظاہر ہے ۔سال کے بارہ مہینوں میں ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر فضیلت حاصل ہے، یوم جمعہ کو تمام ایام پر فضیلت حاصل ہے ["إن من أفضل أيامِكم يوم الجمعةالحدیث"] اسی طرح ایک رات کو دوسری راتوں پر برتری حاصل ہے مثلاً شبِ قدر کو تمام راتوں پر، ["ليلة القدر خير من الف شهر"] اسی طرح شبِ برات کو شب قدر کے بعد تمام راتوں پر فضیلت و برتری حاصل ہے، ["یطلع اللہ علی عبادہ لیلۃ النصف من شعنان]
شعبان کی پندرہویں رات کو شب برات کہاجاتا ہے شب کے معنی رات اور اور برات کے معنی چھٹکارا پانا کے ہیں ۔چونکہ اللہ اس رات سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل کے علاوہ سب کو معاف کردیتا ہے اور بے شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد فرمادیتا ہے اس لیےہم اسے شب برات کہتے ہیں ۔اس رات کو لیلۃ المبارکہ اور لیلۃ الرحمۃ بھی کہا جاتاہے۔
بعض صحابہ نے مثلاً حضرت عکرمہ اور مفسرین کی ایک جماعت نے اللہ تعالیٰ کے قول [إنَا أَنْزَلْنٰه فِيْ لَيْلَةٍ مُبٰرَكَةٍ إنَا كُنَا مُنْذِرِيْنَ، فِيْهَا يُفْرَقٰ كُلُ أَمْرٍ حَكِيْمٍ] (01) میں لیلۃ مبارکۃ سے پندرہویں شعبان کی شب کو مراد لیا ہے [تفسير القرطبي،روح المعانی]
شعبان کے روزہ کی فضیلت اور بالخصوص شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت کے تعلق سے کافی احاديث مروی ہیں اور یہ احادیث صحیح البخاری اور صحیح مسلم وغیرہ صحاح ستہ میں موجود ہیں۔اب اگر ان احادیث کو کوئی ضعیف کہکر مردود قرار دینا چاہتا ہے تو یہ اس کی جہالت اور لا علمی کی دلیل ہے۔
شعبان کا مطلقاً روزہ رکھنے کے تعلق سے امام بخاری حضرت عائشہ صدیقہ سے حدیث نمبر 1970، امام مسلم حضرے عائشہ سے حدیث نمبر 1156، امام ترمذی حضرت انس سے حدیث نمبر 665، امام نسائی حضرت اسامہ بن زید سے حدیث نمبر 2369، ابن حسام الدین الہندی حضرت عائشہ سے حدیث نمبر ۲۴۵۸۴ کے تحت احادیث روایت کرتے ہیں جن سے روز روشن کی طرح عیاں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے بعد شعبان کے روزے سب سے زیادہ رکھا کرتے تھے۔
پندرہویں شعبان کی شب کے قیام اور دن کے روزے کی فضیلت کے حوالہ سے ابن ماجہ، صحیح الجامع الصغیر، جامع الترمذی، مسند احمد بن حنبل، شعب الایمان اور مصنف عبد الرزاق وغیرہ میں احادیث موجود ہیں۔ چنانچہ امام ابن ماجہ اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب پندرہویں شعبان ہو تو اس کی شب کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس رات کو غروب شمس کے بعد آسمانِ دنیا پر (اپنی شایانِ شان) نزول فرماتا ہے اور اعلان فرماتا ہے : "ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی رزق کا سوال کرنے والا کہ اس کو عطا کروں، ہے کوئی مصیبت میں مبتلا کہ اس کو شفا دوں اسی طرح اللہ طلوع فجر تک فرماتا رہتا ہے۔ (02)
اسی طرح امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ نے ایک رات نہیں پایا تو تلاش کرتی ہوئی بقیع پہنچ گئیں، اس موقع پر حضرت عائشہ کو دیکھ کر الله کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر (اپنی شایان شان) نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (لوگوں) کو معاف فرما دیتا ہے. (03)
مسند احمد میں ہے کہ اللہ اس رات سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل کے علاوہ سب کو معاف کردیتا ہے، شعب الایمان میں ہے کہ زانیہ اور مشرک کے سوا ہر سوال کرنے والے کو اللہ عطا فرماتا ہے، اس کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں اور بھی الفاظ مروی ہیں لیکن وہ احادیث سخت تر ضعیف ہیں۔ ماہ شعبان کے روزوں اور قیام کی فضیلت میں صحیح، حسن، ضعیف احادیث موجود ہیں تو سخت تر ضعیف (ضعیف جدا) یا موضوع حدیث کا سہارہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔
مسلمانوں میں شبِ برات کے حوالے سے عام طور پر دو باتیں پائی جاتیں ہیں۔ایک طرف متشدّدین کا گروہ ہے جو اسے بدعت قراردیتا ہے اور اس حوالہ سے روایت کردہ تمام احادیثِ مبارکہ کو ضعیف جدا یا موضوع کے درجہ میں رکھدیتا ہے، جبکہ دوسری طرف جہلاء ہیں جنہوں نے اغیار کی نقالی کرتے ہوئے بہت ساری رسومات و بدعات کو بھی اِس رات عبادت کا ایک حصہ بنا لیا ہے۔ اس لیے ہم ان دونوں گروہوں سے الگ ہٹ کر ایک اعتدال کی راہ اپنائیں یعنی وہ کریں جو ہمارے اسلاف نے کیا، یعنی اس رات اللہ کی عبادت کی کریں، دن کا روزہ رکھیں، زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں، تلاوت کلام اللہ کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، صدقہ خیرات کریں، جن لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہو ان سے معافی مانگیں، قضائے عمری ادا کریں اور شریعت کے خلاف امور سے بچیں۔
🌲≠≠==================≠≠🌲
(01) القرآن الکریم، سورۃ الدخان، آیت :3
(02) (سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاة والسنۃ فیھا، حدیث نمبر : 1451)
(03) جامع الترمذي، كتاب الصيام، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، رقم الحديث: 744
*🖋️🖊️محمد اویس مصباحی*
🌲≠≠==================≠≠🌲
📧uvaismisbahi77@gmail.com
🥏8393958994
*Published by :* _Faizan-e-Imam Abu Hamifa Organization_
No comments:
Post a Comment